اسباق تاریخ | Asbaq Tarikh | Wahiduddin Khan Iqbaliyat
وہ اپنے اُوپر اُٹھے ہوئے پیٹ کو دیکھتا ہے، جو محرابی حلقوں میں تقسیم ہوچکا ہوتا ہے۔ اس کی پتلی پتلی ٹانگیں بے بسی میں لہرا رہی ہوتی ہیں۔
عورت اور طبقاتی جدوجہد
Baili Rajpotoon Ki Malika / Nimra Ahmad
" ایور پیک کی کتاب SUDDEN ENDINGS نظر سے گزری تو میں پڑھے بغیر نہ رہ سکی۔ جس محنت سے انہوں نے دنیا بھر کی ان معروف شخصیات کے حالات جمع کیے کہ جنہوں نے زندگی کے مصائب سے تنگ آکر خود کشی کر لی وہ بے مثال ہے۔ لیکن ان لوگوں کے حالات پر یہ محض بے مقصد طبع آزمائی نہیں بلکہ زبردست تحقیقی کام ہے۔ ان کی زندگیوں کے ایسے بہت سے پہلو جو ہماری نظروں سے مخفی تھے وہ فلم کی کہانی کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے چلنے لگتے ہیں۔ کتاب میں شامل ان لوگوں کی کہانیاں جن میں شاعر، ادیب، آرٹسٹ سب شامل ہیں دراصل معاشرے کے اس حساس طبقے کے اندر چھپے ہوئے خوف و ہراس ، مایوسی، ناکام حسرتوں ، بے مراد خواہشوں اور نازک ترین احساسات کی نشاندہی ہے جو آہستہ آہستہ انہیں موت کی طرف دھکیلتے رہے۔ سیاہ بختی اور زندگی کی ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کا لاوا بڑی خاموشی سے اندر ہی اندر ابلتا رہا۔ ناپختہ عمر کے دکھوں محرومیوں نے ساری عمر پیچھا نہ چھوڑا تو زندگی سے انتقام اس کو ختم کر کے لیا ۔ ہارٹ کرین اور ڈیانا بیری مور کے شخصی خاکوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس بحرانی شدت کے ساتھ دونوں نے کم عمری میں اپنے والدین کے شدید اختلافات کے باعث کیا اس نے ساری عمر کے لیے انہیں روگ دے دیا اور ان کی شخصیتوں میں ایسا خلا رہ گیا جو کبھی بھرا نہ جا سکا۔ والدین کی شخصیتوں کے تضاداور نفسیاتی الجھنوں نے ان حساس ذہنوں کو بچپن سے ہی بیمار کر دیا۔ ورجینیا وولف نے کم عمری میں ہی اپنے پیاروں کو موت میں جاتے دیکھا۔ اس نے جتنا لکھا تقریبا موت سب میں ہی اس کا بنیادی موضوع رہی۔ زندگی اور موت کی پراسراریت نے ہر لمحہ اسے پریشان رکھا جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہوئی۔ اور بے اختیار زندگی کی بے وفائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے اپنی ڈائری میں لکھا " زندگی اتنی درد ناک کیوں ہے؟ بالکل اس گہرے گڑھے کی طرح جس کے ساتھ ننگے راستے ہوں ۔ میں نے نیچے اور خود کو احمق محسوس کرنے لگی۔ میں حیران ہوں کہ اس راستے تک کیسے چلوں گی؟ گویا زندگی کو اپنے ہاتھوں ٹھکرا دینے کا فیصلہ اس معروف برطانوی مصنفہ نے بہت عرصہ قبل کر لیا تھا۔ "
چین کا ماضی فیوڈلزم اور بادشاہت کی ہولناکی ہوسناکی اور بے رحمی سے اس قدر لتھڑا ہوا ہے کہ گھن آتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ ان کا گزرا ہوا کل ہمارا ’آج‘ ہے۔
’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ اردو کے جدید سفرناموں میں ایک دلچسپ، معلوماتی اور سحرانگیز سفرنامہ ہوگا کہ یہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی نے پچھلے چند برسوں میں مختلف جرائد میں اپنے کئی سیاحتی سفروں کو لکھا اور پھر قارئین کی دلچسپی اور اصرار کے باعث انہوں نے اپنی اس یادگار سیاحت کو کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیا ہے۔ یوں ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ کتابی شکل میں اُن کا پہلا سفرنامہ ہے۔
ندیم اسلم، پاکستانوی نژاد برطانوی ادیب ہیں۔ 1980ء میں جنرل ضیا کے دورمیں اُن کے والد نقل مکانی کرکے برطانیہ چلے گئے ۔ ندیم اسلم نے کم عمری میں ہی لکھنے کا آغاز کردیا تھا۔ 1993ء میں ان کا پہلا ناول Season of the Rainbirds شائع ہوا۔ اسے ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی۔ وہ اب تکپانچ ناول تحریر کرچکے ہیں۔
گوستاف لوبون ایک فرانسیسی محقق اور مو¿رخ تھے۔ انہوں نے جب بھی کسی تہذیب وتمدن پر کتاب لکھی، اس کے لیے انہوں نے تحقیقی حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخ کے موضوع پر لکھی گئیں ان کی کتابیں مستند حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ اپنی تحقیق کو قلم بند کرنے کے لیے انہوں نے تعصب اور Glorification کو بالائے طاق رکھ دیا۔
پاگل آدمی کی ڈایری | Pagal Admi Ki Dairy | Khalid Fateh Muhammad
سرمایہ نظام کے خلاف بغاوت اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ مارکسی نظریات سیدھے سادھے بیانیے اور عام زندگی سے اخذ کردہ ہیں ،ٹھونسے نہیں گئے۔
Paisa Apko Ameer nahi bnaega By Sajad Ahmed Sajad
روبینہ سہگل