Testament Of Love | Nasir Hussain Bukhari Ghaffar ShahzadWe gladly introduce Nasir Hussain Bukhari, an esteemed educationist, political activist, analyst, and short story writer, to you. In his book, Testament of Love, Bukhari brings forth a collection of captivating stories that delve into themes such as the Dr suppression of women, the plight of the impoverished, the power of love, and the impact of globalization. From the very first story to the last, readers will find themselves engrossed in the
اسی دوران شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین اور تراجم شائع ہونا شروع ہوئے جس نے ادبی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند ادبی تحریک کا زور ٹوٹ رہا تھا۔ ترقی پسند ادیبوں نے فاروقی صاحب کو جدیدیت اور ادب برائے ادب کا علم بردار سمجھ کر انہیں اپنا حریف سمجھنا شروع کیا مگر فاروقی صاحب اپنے محاذ پر ڈٹے رہے۔ ان کی علمیت اور وسعت مطالعہ حیران کن تھی، تجزیہ کاری اور ترکیب کاری کے اوصاف نے ان کی تنقید میں استدلال کا ایک منفرد انداز پیدا کردیا تھا جس سے ان کے حریف بھی متاثر ہوئے۔
ابھی صبح ہونے ہی والی تھی کہ ان میں سے ایک سسکیاں بھرنے لگا اور زور زور سے رونے لگا۔
(قبل مسیح تا 1947)
ڈاکٹر شکیل پتافی
کسی وزیر خزانہ کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟ اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ تمام خاندان مکمل طور پر متحد ہیں۔ یورپئین طاقتوں کا اتحاد سیاستدانوں کی دین نہیں بلکہ اسی بینکنگ ڈیپ اسٹیٹ کی بدولت ہے۔ یہی طاقت نکسن شاک سمیت تمام فیصلوں پر اثرانداز ہوتی آئی ہے۔
آسٹریلیا – اپنی جغرافیائی تنہائی کے باوجود، ایک ابھرتی ہوئی طاقت
"Romanticizing Afghanistan
جب میں کسی کتاب کے لکھنے کے لیے قلم اٹھاتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ میں ایک شاہکار تخلیق کرنے جارہا ہوں۔ میں لکھتا ہوں کیونکہ کوئی ایسی جھوٹی بات ہے جسے میں بے نقاب کرنا چاہتا ہوں، کوئی ایسا حقیقت ہے جس کی جانب میں لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں اور میرا اولین مقصد یہ ہوتا ہے کہ میری بات سنی جائے۔
ترجمہ
جو کہانی کا انجام جانتے ہیں
"انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کی زندگی ہے، یہ اسے صرف ایک بار ہی دی جاتی ہے، لہذا اسے اس طرح گزارنی چاہیے کہ اسے بیتے ہُوئے سالوں پر کوئی اذیت ناک ندامت محسوس نہ ہو، اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہو تو وہ کہہ سکے میری ساری زندگی، میری ساری طاقت دنیا کے بہترین مقصد ”انسانیت کی آزادی کی لڑائی" کے لیے وقف ہوٸی۔
ہمارے ہاں یوں موضوعات پر بحث کرنا اور ان کو رائج کرنے کیلئے جدوجہد کرنا تو فلحال محال ہے کیونکہ یہاں ابھی تک یہ کنفرم نہیں ہورہا کہ ریاست کا بھی مذہب ہوسکتا ہے کہ نہیں، یہاں ابھی تک جمہوریت مسلمان نہیں ہوچکا ہے اور یہاں ابھی تک مادہ اور خیال کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان کو ایک ہی پیمانے پر تولا جاتا ہے