Parents’ Rights in Islam ربیع الاولWritten in the English language, the book details the rights of parents not only Islamically but also in a social and scientific manner. Not only does it explain why the children are obligated to fulfill the rights of their parents but it also elucidates that there is a heavy responsibility of upbringing and training of the young generation on the shoulders of parents. Parental rights are accompanied by the responsibility of bringing up children and
لیکچر نمبر 33: رآء مرقّقہ کا بیان
🔹 اللہ تعالیٰ کی شان قدرت
challenges to leadership and analysing education system in Pakistan
غصہ اور غضب رزائل اخلاق میں سے ہے، جس سے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں منع فرمایا گیا ہے۔ آج جدید سائنس نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ شدید غصہ انسان کی ذہنی، نفسیاتی اور طبی صحت کے لیے ضرر رساں ہے ۔ لہذا اسے کنٹرول کیا جانا چاہئے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات میں غصہ پی جانے کے حوالے سے نہایت اَہم ہدایات ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا صدقہ ہے، کسی اندھے کو راستہ دکھانا بھی صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ) ہٹانا بھی صدقہ ہے، اپنے برتن سے دوسرے بھائی کے برتن میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے۔
🔹 ختم نبوت سے متعلق ائمہ حدیث کے اقوال
مساجد کی تعمیر اسلامی ثقافت کا امتیاز بھی ہے اور اس کے روحانی نظام میں موجود نظم اور طہارت کی علامت بھی۔ مسجد اسلامی سوسائٹی میں باہمی اِحترام، خیر خواہی، اِجتماعیت اور محبت الٰہی کا نشان سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرتِ مدینہ کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ داخل ہونے کے فوراً بعد سب سے پہلے مسجد قبا کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ بعد ازاں جب مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستقل قیام کا فیصلہ فرمایا تو سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں عارضی قیام کے دوران اپنے اور اپنی ازواجِ مطہرات کے رہائشی حجروں سے بھی پہلے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعمیر فرمائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تا دم وصال اسی مسجد کو اپنا مرکزی دفتر، دار الحکومت، دار القضاء، مرکز تعلیم و تربیت اور دیگر سماجی و سیاسی سرگرمیوں کا محور بنائے رکھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی اسی سنت مطہرہ پر عمل فرمایا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اسلام نے نماز جیسی اعلیٰ ترین عبادت کی طرح ان تمام سیاسی، سماجی، تربیتی، تعلیمی اور عدالتی امور کی انجام دہی کو بھی دینی فرائض سمجھتے ہوئے برابر اہمیت اور اوّلیت دی ہے۔
اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھواتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق (کفار و مشرکین کے مقابلہ میں) فخریہ شعر پڑھتے۔ (سنن ترمذی)
Rodney Wilson
Dahiru Shunni
Islamic Business Finance is based on strong ethical regulations as suggested by Islamic Literature
A reference book for practitioners